Home / اردو ادب / کباڑ خانہ
urdu articles

کباڑ خانہ

تحریر: ارشد فاروق بٹ:
او ئےچھوٹے! اپنا کچرا ہٹا ادھر سے۔ کیا ایک میل دور تک اپنی دکان کا کباڑ بکھیر دیتے ہو۔ گاہک اندھے ہیں کیا جو گزرنے کا راستہ بھی نہیں چھوڑتے؟ باپ دادا کی سڑک سمجھ بیٹھے ہو۔

ساتھ والی دکان کے غصے بھرائے توند لٹکے آدمی نے ٹین کا کنستر اٹھا کر کباڑ کے عین اوپر پھینکا تو وہ لوہے کی ایک وزنی لٹھ پر جا پڑا۔ کنستر پرایک بڑا سا چب پڑ گیا اور کنکھناہٹ سے کان بج اٹھے۔

تیرہ سالہ چندو کباڑیے نے پیپے کو ہتھوڑی سے ٹھونک کر اس کا چب نکالااور فروخت کے لیے بکھری دیگر اشیاء کے ساتھ رکھ دیا۔ جن میں لوہے کی سلاخیں، سائیکلوں کے حصے پرزے، زنگ آلودزنجیریں، پلاسٹک کی بوتلیں، ٹین کے کنستر، پھٹے پرانے ٹائر،ٹانگوں سے محروم کرسیاں، کانچ کے برتن،جوتوں کے بے ترتیب جوڑے اور ایسی ہی بے شمار چیزیں بکھری پڑی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: قرض

دکان کے سامنے لگے کیکر کے سوکھے ہوئے درخت پر ایک صاف ستھرا جھولا لٹک رہا تھا۔ چندو کو کچھ نہ سوجھا تو جا کر اس پر جھاڑن پھیرنے لگا۔ شاید اس کے پاس غصے کو دبانے کا کوئی اور حل نہ تھا۔ جب بھی کوئی اسے برا بھلا کہتا تو وہ دانتوں تلے زبان لے کر خود کو کسی کام میں مصروف کر لیتا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

ابھی وہ پہلا زخم سہلا ہی رہا تھا کہ دوسری جانب والی دکان سے ایک مہذب دکھائی دینے والا شخص برآمد ہوااور حدود تجاوز کیے ایک جگ کو لات رسید کی اور اسے دیگر سامان کے مرکز میں پہنچا دیا۔ چندو نے بیچارگی سے اس کی طرف دیکھا۔ واپس جاتے ہوئے اس نے ایک پھٹے ہوئے کولر پر اپنا بلغم تھوک دیا۔ اب کی بار بھی چندو دانت پیس کر رہ گیا۔ اس کے جی میں تو آئی کہ لوہے کی لٹھ اٹھا کر اس کے سر پہ دے مارےمگر کچھ سوچ کے چپ ہو رہا۔

چندو کو کباڑ خانہ کھولے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ کی حادثاتی موت نے اس کی پرسکون زندگی میں بھونچال پیدا کر دیا تھا۔ تیرہ سال کا چندو اس بوڑھے شخص کی مانند دکھائی دیتا جس نے زندگی کے گرم و سرد دیکھ رکھے ہوں۔ دن رات محنت کر کے اس نے کچھ رقم پس انداز کی ، چھوٹی سی دکان کرائے پر لی اور پرانی اور ناکارہ اشیاء کی خریدوفروخت شروع کر دی۔چھوٹی دکان اور کم جگہ کے باعث دونوں اطراف کے دکاندار آئے روز اس سے جھگڑتے اور چیزوں کو حقارت سے اٹھا اٹھا کر پھینکتے۔چندو اس بے رحمی کو کسی بوڑے آدمی کی طرح نظرانداز کر کے پھر اپنے کام میں مگن ہو جاتا۔

چندو کا اصل نام کسی کو معلوم نہیں تھا۔ شاید اس کی ماں اسے پیار سے چندو کہہ کر بلاتی تھی۔ کبھی کبھار زندگی کی تلخیاں برداشت سے باہر ہو جاتیں تو وہ دل ہی دل میں چیخ اٹھتا اور خود سے یوں مخاطب ہوتا گویا اپنے ماں باپ کو پکار رہا ہو۔ وہ سوچتا کہ اگر اس کے ماں باپ زندہ ہوتے تو زندگی اتنی بے رحمی سے پیش نہ آتی۔

یہ دونوں وحشی جانور ہیں ۔ ایک نے کولر پر بلغم تھوکا تو دوسرے نے ٹین کا کنستر اٹھا کے پھینکا۔ کیکر پر لٹکتے ہوئےجھولے کو صاف کرتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا۔اچانک اس کی نظرکے سامنے سڑک کے پرلی طرف پان شاپ کے سامنے نئی ہنڈا کار رکی۔ ایک نوجوان ڈرائیونگ سیٹ سے اٹھ کر باہر نکلا اور پان شاپ کی طرف چل دیا۔ ساتھ والی سیٹ پر ایک خوبرو لڑکی کی نظر دوسری طرف کیکر پر لٹکتے جھولے پر پڑی اور وہ اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی۔ چندو کا دماغ کسی عمر رسیدہ شخص کی طرح کام کرنے لگا۔وہ دل ہی دل میں خوش ہوا ۔” میری محنت ٹھکانے لگی۔ ہو نہ ہو یہ لڑکی جھولا خریدنے والی ہے۔ میں نے یہ جھولا صرف دو سو روپے میں خریدا تھا۔ اب میں کسی صورت پانچ سو سے کم نہیں بیچوں گا۔”

کچھ دیر بعد اس لڑکی کا ساتھی ہاتھ میں جوس کے ڈبے پکڑے آکر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ وہ جوس کا ایک ڈبہ لڑکی کو دے کر دوسرا اپنے منہ سے لگالیتا ہے۔ لڑکی جوس کا ڈبہ پکڑنے میں ہچکچاتی ہے جیسے اس میں جوس کی بجائے تیزاب ہو۔لیکن پھر بے دلی سے جوس پینا شروع کرتی ہے۔ وہ دونوں کچھ دیر باتیں کرتے ہیں ۔ لڑکی بار بار کیکر کے اوپر لٹکتے جھولے کو دیکھتی ہے۔۔ جوس ختم ہونے پر لڑکی خالی ڈبے کو بڑی تلخی سے کباڑخانے کے سامنے پھینک دیتی ہے جبکہ لڑکا بڑے مہذب انداز میں شیشہ نیچے کرکے جوس کا ڈبہ پھینکتا ہے پھر شیشہ اوپر کر لیتا ہے۔گاڑی کا انجن سٹارٹ ہوتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ چندو دل ہی دل میں اداس ہو جاتا ہے۔ پھر ان کو گالی دیتے ہوئے اٹھتا ہے۔

“سالے کنگلے ہی تھے۔ “اورجوس کے خالی ڈبے پر پاؤں مار کر اپنی نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ پٹاخے کی آواز سن کر آس پاس کے لوگ چونک جاتے ہیں۔

اگلے روز سات بجے صبح چندو نے نیم دلی سے دکان کھولی اوردکان کے سامنے پڑے کباڑ کو جھاڑنا شروع کیا۔اس نے کیکر سے لٹکے جھولے کو اچھی طرح صاف کیا۔ آدھے گھنٹے تک وہ کاروبار کے لیے تیار تھا۔

وہ ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا جس کو اینٹوں نے سہارا دے رکھا تھا اورجھولے کو تکنے لگا۔ وہ جھولا اس کو سب سے قیمتی لگتا جس میں اسے اپنا کھویا ہوا بچپن نظر آتا۔ کبھی کبھار وہ بے اختیار اس کی مرمت شروع کر دیتا اور اپنے تصور میں اس کے اندر بیٹھ کر اپنے آپ کو لوریاں دیتے دیتے سلا دیتا۔جاگتی آنکھوں کی ایسی ہی ایک نیند کی حالت میں اس نے ایک حسین خواب دیکھا۔

“تصور میں وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھاجس کی جھولا جھولنے کی عمر تھی۔ وہ اپنی دکان پر جھولے کو تلاش کرتا ہے لیکن وہ نہیں ملتا۔ شاید وہ اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ چکا تھا۔”

کہاں کھوگئے ہو چھوٹے! ایک نسوانی آواز اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لے آئی۔

چندو نے ایک میلے کچیلے کپڑے سے اپنا چہرہ صاف کیا اور مخاطب کرنے والی لڑکی کی طرف دیکھا۔ پھر ہڑبڑا کر جھولے کی طرف دیکھا جو اپنی جگہ موجود تھا۔

میں کل ادھر سے گزرتے وقت کچھ دیر ایک کار میں تمہاری دکان کے سامنے رکی تھی۔

جی میڈم میں نے آپ کو دیکھا تھا۔

تم کیا کام کرتے ہو؟لڑکی نے پوچھا جبکہ وہ برابر کیکر پر لٹکتے جھولے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

جی میڈم میں پرانی اشیاء کی خریدوفروخت کا کام کرتا ہوں۔ لوگ اپنی ناکارہ اور پرانی چیزوں کو یہاں فروخت کر جاتے ہیں۔

ناکارہ چیزوں کو؟

جی میڈم ناکارہ چیزوں کو۔ میرا مطلب ہے جن چیزوں کی لوگوں کو ضرورت نہیں ہوتی۔

اچھا تو یہ جھولا کتنے کا ہے؟

یہ بیچنےکے لیے نہیں ہے میڈم۔ میں نے ابھی ابھی اسے بیچنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

اچھا تو تم کتنے بجے دکان کھولتے ہو؟

پورے سات بجے میڈم۔کیونکہ وہ دونوں خنزیر آٹھ بجے آتے ہیں۔

اچھا تو میں چلتی ہوں۔ میں پھر آؤں گی۔

زندگی کی سختیاں جھیلتے چندو اس قابل ہو گیا تھا کہ لوگوں کے اندر جھانک سکے۔ اس نے لڑکی کو واپس جاتے ہوئے سر تا پا بغور دیکھا۔

لڑکی نے اونچی ایڑھی والی سینڈل، بلیو جین کی پینٹ پہن رکھی تھی جس کے اوپر پھولوں سے مزین کھلی شرٹ زیب تن تھی۔ کلائیوں پر سونے کے کڑے اور بریسلٹ، گلے میں قیمتی ہار، بڑی بڑی آنکھیں اورکولہے تک لہراتے بال اور بھری بھری چھاتی جس میں سختی صاف محسوس کی جا سکتی تھی جیسے ابھی ابھی کسی کی بھوک مٹا کے آئی ہو۔ پلک جھپکتے میں چندو نے اس کا پیٹ بھی دیکھ لیا تھا جو پھول کر غبارے جیسا ہو گیا تھا۔

بھاری قدموں سے وہ سڑک پار کر کے پان شاپ پر گئی اور جوس کا ایک ڈبہ خرید کر کھوکھے کے پچھواڑے کھڑی ہو گئی جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ اس کی نظر اب بھی سڑک پار کیکر کے درخت پر لٹکتے جھولے پر تھی۔

ایک آواز نےچندو کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ اب کی بار ایک ڈول اس مہذب شخص کی لات کے عتاب میں آ گیا تھا۔چندو نے سوچا کہ ایک دن وہ اس کمینے کو ضرور سبق سکھائے گا۔

اگلی صبح چندو حسب معمول اپنی دکان پر پہنچا۔ کیکر کےپرانے درخت پر پرندوں نے شور مچا رکھا تھا۔اس نے ایک پتھر اٹھایا اور پرندوں کو بھگانے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ اسی اثناء میں اس کی نظر جھولے پرپڑی جو اب خالی نہیں تھا۔اس میں پڑی پوتڑوں کی گٹھڑی ہل رہی تھی۔
(بشکریہ دنیا نیوز)

About Farooq

Arshad Farooq has been an Urdu Columnist, feature writer and blogger for 10 years. Has has done masters in English and Journalism from Bahauddin Zakariya University Multan, Punjab, Pakistan.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے