Home / اردو ادب / تمغہ جرات (افسانہ)
kashmir issue america vs india

تمغہ جرات (افسانہ)

تمغہ جرات
جب وہ اسٹیج پر اپنے خاوند کا تمغہ جرات وصول کرنے گئی تو میں حال میں اسٹیج کے سامنے بیٹھا، میں سوچ رہا تھا اگر واقعی یہ نہ ہوتی تو جمیل کو یہ تمغہ کبھی نہ ملتا۔ جمیل کی جگہ پہ اسے حاصل کرنے کی وہی حقدار تھی۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے ”کسی کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے“۔
میں اور جمیل دونوں فوج میں اکٹھے بھرتی ہوئے تھے۔ وہ بہت زیادہ باتونی اور شرارتی تھا۔اس کی طبیعت میں شوخی اور چھیڑ تھی۔ اس کی ایک ایک حرکت سے تیزی اور چستی ٹپکتی تھی۔ ٹریننگ کے دوران شاید ہی یونٹ کا کوئی سپاہی ہو جو اس کی شرارت سے بچا ہو۔میں کچھ سنجیدہ ٹائپ کا تھا۔ مجھے جمیل جیسے شوخ لڑکے اچھے نہیں لگتے تھے۔ٹریننگ کے دوران میں نے بہت کم اس سے بات کی۔ اگر کبھی وہ مجھ سے کوئی بات بھی کرتا تو میں اس کا جواب بڑی سرد مہری اور بے رخی سے دیتا تا کہ سمجھ جائے کہ اس کا بات کرنا مجھے ناگوار گزرتا ہے اوروہ مجھ سے دوبارہ بات کرنے کی جسارت نہ کرے۔لیکن وہ برگشتہ میرے لہجے کو بالائے طاق رکھ کے مجھے کسی نہ کسی بات میں مخاطب کر لیتا۔ہماری ٹریننگ ختم ہوئی تو میری بد قسمتی سمجھیں یا اس کی خوش قسمتی اس کو نہ صرف میری یونٹ میں شفٹ کر دیا بلکہ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ اسے میرا روم میٹ بھی بنا دیاگیا۔ایک ہی کمرے میں رہتے ہوئے ہم دونوں نے کچھ عرصہ اپنے اپنے رویے تبدیل نہیں کیے، وہ مجھ سے پہلے ہی کی طرح بات کرتا اور میں اسی طرح بے اعتنائی اور لاتعلقی سے جواب دیتا۔لیکن پھرآہستہ آہستہ میرا اس کے بارے میں قائم کردہ خیالی ڈھانچہ بدلتا گیا۔ وہ سارا خاکہ جو میں نے اس کے لیے اپنے ذہن میں تیار کر رکھا تھا اب بالکل منہدم ہو گیا۔ اب مجھے اس کی حرکتیں بری نہ لگتی۔ بعد ازاں وہ میرا اچھا دوست بن گیا تھا اور اپنی ساری باتیں مجھ سے شئیر کرنے لگا۔ وہ کسی نہ کسی معاملے میں مجھ سے مشورہ طلب کرتا رہتا۔جب کبھی وہ کسی مسئلے میں الجھا ہوتا گھنٹوں سوچنے پر بھی کچھ بن نہ پڑتا تو پھر مجھ سے آ کر اس کا حل پوچھتا۔اس میں خرابی یہ تھی وہ ذرا ذرا سی بات کو لے کر پریشان ہو جا تا۔ اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا۔

قریباً فوج میں ہمیں بھرتی ہوئے ایک سال کا عرصہ ہو گیا۔ ایک رات مجھ سے کہنے لگا، ”یار تم سے ایک مشورہ لینا ہے؟“۔
میں نے کہا ”ہاں پوچھو۔۔۔“
چہرے کو متین بنا کر بولا۔ ”میں منگنی نہ کروا لوں؟“
میں نے جواب دیا”کروا لو، یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟ اور یہ تمھیں یوں آج اچانک منگنی کا خیال کہاں سے آ گیا؟“
اس نے جواب دیا ”اچانک نہیں آیا، آج گھر سے کال آئی تھی، وہ بتا رہے تھے تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈھ لی ہے اب کی بار جب چھٹی آؤ گے تو منگنی کر دیں گے۔“
میں نے پوچھا ”تم نے لڑکی دیکھی ہے؟“
”نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔“
”پھر؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
”پھر کیا؟۔۔۔۔۔۔ جب گھر جاؤں گا تو پتہ چل جائے گا“۔اس نے جواب دیا۔
کچھ دن بعد وہ ایک مہینے کی چھٹی لے کر چلا گیا۔ میری اس سے ایک دو بار فون پہ بات ہوئی۔جب چھٹی ختم کر کے کینٹ میں آیا تو آتے ہی مجھے دیکھ کرجوش سے اپنے بازوں پھیلا دئیے، جب میں گلے ملا تو مجھے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا اور ایسے زور سے دبایا کہ میری پسلیوں میں درد ہونے لگا۔ میں نے بڑی مشکل سے خود کو اِس کے چنگل سے چھڑایا۔جب رات ہوئی تو آدھی رات سے پہلے مجھے سونے نہ دیا۔وہ چاہتا تھا میں اس کی ساری باتیں سنوں۔ جب کبھی میری نیند سے آنکھیں بند ہونے لگتیں تو ہاتھ سے مجھے ٹہو دیتا۔ میں تنگ آ کر کہتا
”یار بس کرو یار!۔۔۔۔۔۔ بس کرو، اب باقی باتیں کل سنا دینا مجھے سونے بھی دو“
”نہیں پہلے میری ساری باتیں سنو“
اس نے مجھے اپنی چھٹی کے پہلے دن سے لے کر چھٹی کے آخری دن تک ساری تفصیل سنائی۔
وہ اپنی منگنی سے بہت ہی زیادہ خوش تھا۔وہ اپنی منگیتر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابیں ملا دیتا۔ہررات بہانے سے اس کی کوئی نہ کوئی بات چھیڑ کر بیٹھ جاتا اور مجھے یہ خدشہ ہوتا کہ اگر اس نے اْس کی باتیں شروع کر دی تو اس کی تعریفوں کا لامتناہی سلسلہ جلدی ختم نہیں ہوگااور اس طرح وہ مجھے جلدی سونے نہیں دے گا۔ میری کوشش ہوتی اس کواِدھراُدھر کی باتوں میں ہی الجھائے رکھوں اور اس طرف آنے ہی نہ دوں۔
وقت گزرتا گیا، اس کے گھر والوں نے اس کی شادی طے کردی۔وہ چھٹی لے کر کوئی آدھا مہینہ پہلے ہی چلا گیا اور جاتے ہوئے اپنی شادی پر آنے کی مجھے سختی سے تاکیدکی۔”اگر نہ آئے تو پھر دیکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا“۔
”اچھا بابا اچھا“ مجھے اس کی سنجیدگی پر ہنسی آ گئی وہ بہت کم سنجیدہ ہوتا تھا۔
اس کی شادی سے دو دن پہلے میں نے چھٹی لی اور اس کے گاؤں روانہ ہو گیا۔جب اس کے گھر پہنچا تو فرط مسرت سے مجھ سے لپٹ گیا۔ میں نے اس خدشے سے ڈرتے ہوئے ذرا احتیاط سے ملا کہ کہیں پہلے کی طرح میری پسلیوں کا کچومر نہ نکال دے۔ اس کے بعد اس نے میرا اپنے گھر والوں سے تعارف کروایااور اگلے دن تک مجھ سے ایک منٹ کے لیے بھی جدا نہ ہوا۔
شادی کی شام برات سے آ کر میں صحن میں بیٹھا تھا۔ مجھے ڈھونڈتا ہوا آ گیا”آؤ میرے ساتھ“ میں نے پوچھا”کہاں؟“ آؤ تمھیں تمہاری بھابی سے ملاتا ہوں۔مجھے ہچکچاہٹ ہوئی جب وہ اتنے سارے مہمانوں کے سامنے میرا ہاتھ پکڑکر کھینچتاہوا اپنے کمرے میں لے گیا۔ اس کی بیوی واقعی خوبصورت تھی اور طور طریقوں سے اندازہ ہوتا تھا وہ اعلیٰ درجے کی تعلیم یافتہ اور بلند خیالات کی مالک ہے اور اس کا اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا اس کے اچھے خاندان کی نمائندگی کرتا تھا۔

شادی کے تیسرے دن میں نے بڑی مشکل سے اس سے اجازت چاہی۔میں وہاں سے اپنے گھر آگیا۔ چھٹی پوری ہونے کے بعد جب میں کینٹ گیا تو مجھ سے کوئی دس دن بعد یونٹ میں آیا۔ اس کی رنگت پہلے سے بھی زیادہ نکھر گئی تھی اور خوشی اس کی آنکھوں سے ابل رہی تھی۔ اس کی ساری آرزوئیں پوری ہو گئی تھیں۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ شوخ اور جوشیلا ہو گیا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پہ قہقہ لگاتا اور مجھے تنگ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی چھیڑ خانی کرتا رہتا۔
دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں گزرتے گئے،وہ اس عرصے میں دو تین بار گھرکا چکر لگا آیا۔قریباً شادی کے چھ مہینے بعد اس کا ٹرانسفر کینٹ کی دوسری یونٹ میں ہوگیا۔ وہ اب روز تو نہ ملتا لیکن کبھی کبھی کنٹین پربیٹھے ہوئے اس سے ملاقات ہو جاتی۔کچھ عرصہ بعد یہ سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔
کافی عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن میں کسی کام سے اس کی یونٹ میں گیا۔ میری اس پہ اچانک نظر پڑی۔اس کا چہرہ ایسے کملایا ہوا جیسے وہ برسوں کا مریض ہو،بڑھی ہوئی شیو، بکھرے ہوئے بال۔میں نے ملتے ہی مذاق سے کہا”یہ کیا تم نے ناکام عاشقوں جیسا حال بنا رکھا ہے؟“ میرے سوال کا مختصر سا جواب دیا ”بس ویسے ہی“۔ تب مجھے جلدی تھی، اس پر میں نے کوئی خاص دھیان نہ دیا۔پھر کچھ دنوں بعد مجھے اس کا خیال آیا کہ وہ ضرور کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔ مجھے دیکھ کر تو اس کا چہرہ خوشی کے لطیف جذبات سے کھل اٹھتا تھا۔ جب کبھی ملتا تھاتو مجھ سے بغل گیر ہو جاتا تھا۔ یوں اس بے پروائی سے مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔ مجھے اس کی فکر دامن گیر ہوئی، میں نے ارادہ کیا کسی دن وقت نکال کر اس سے ملنے جاؤں گا۔
چند دن بعد میں دوبارہ اس سے ملنے گیا۔افسردگی کا لبادہ اوڑھے، بے آس و ویران چہرہ لیے، وہ اکیلا ایک بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سلام کہا تو چہرہ اوپر اٹھایا جس پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اس نے سلام کا جواب دینے کے بعد کوئی بات نہ کی۔ میں اپنے تئیں سوچنے لگا اس نے میرے ساتھ ایسا رویہ کبھی نہیں اپنایا تھا۔ میں نے بات شروع کی۔ ”یار کیا بات ہے،تم کس وجہ سے اتنے پریشان ہو؟“
”کوئی پریشانی نہیں“اس نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
”تم مجھے تو بتاؤ، آخر تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟میں تمہارا دوست ہوں۔ مجھے اتنا تو حق حاصل ہے کہ تم سے پوچھ سکوں“
میں اتنا کہہ کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہ چپ سر جھکائے اپنے دونوں پیروں کے درمیان سے زمین کو گھورتا رہا۔
میں نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر کہا ”دیکھو یار تمہیں کوئی پریشانی ہے توتم مجھے بتاؤ شایدمیں تمہاری مدد کر سکوں“
وہ بدستور چپ ہی رہا لیکن شاید میری ان باتوں کا اس کے دل پر اتنا سا اثرتو ضرور ہو گیا تھا کہ اس کی آنکھیں پُر آب ہو گئیں، جن سے چند قطرے گر کر زمین میں جذب ہو گئے اور گرنے سے پہلے مجھے اس بات کی گواہی ضرور دے گئے تھے کہ وہ کسی کرب سے نبرد آزما ہے۔میں کئی دفعہ اس سے اس کی پریشانی کا سبب دریافت کرنے گیالیکن اس ڈور کا سرا میرے ہاتھ نہ آیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی دونوں طرف کی فوج کو بارڈر پر لگا دیا گیا۔ جن میں، میں اور جمیل بھی شامل تھے۔ لیکن اس معاملے میں اچھا یہ ہوا کہ جمیل میرے ساتھ ہی تھا۔ وہ ہر وقت محویت کے عالم میں زمین کو تکتا رہتا۔ نہ کچھ خود سے کھاتا اور نہ پیتا میرے بہت اصرار کرنے پر تھوڑا کچھ کھا لیتا۔اس کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ وہ اس قابل نہیں تھا کہ جنگ لڑ سکے۔ لیکن ان حالات میں چھٹی ملنا نا ممکن تھا۔میں بارہا اس کو کریدنے کی کوشش کی لیکن ہر بار مجھے شکست ہوئی۔
اس کی صحت کی طرح دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوتے گئے۔ساری فوج بارڈر پر الرٹ تھی۔ اعلان جنگ کے ساتھ ہی توپیں دغنے لگیں، گولے برسنے لگے، فضائیں بارود کی آندھی سے اٹ گئی۔ ہر طرف سے تڑ تڑ فائر ہونے کی آوازیں آتیں۔ ساری فضا خوف کے نرغے میں تھی۔ کسی حادثے کے بغیر بھی زندگی نیم حادثہ تھی، ہر لمحے گولیوں کے برسنے کا خدشہ رہتا۔ اچھے بھلے چہرے صبح کو محو خرام ہوتے اور شام تک دھماکے میں اڑ چکے ہوتے۔
میں نے مورچے میں بیٹھے ہوئے کہا ”دیکھو جمیل یہ وہ جگہ ہے یہاں پر بیٹھ کر زندگی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ اس کے بعد میں تم سے نہیں پوچھوں گا، میری آخری استدعا سمجھ کر ہی بتا دو۔ تمہاری وہ ساری خوشیاں، شوخیاں کس چیز نے چھین لی ہیں؟ تم جو انسانی رشتوں کے مدوجزر پر نگاہ رکھتے تھے۔ اب تمہارے لیے دوستی کا رشتہ بے معنی کیسے ہو گیا؟ تم اپنے دکھ اور کرب مجھ سے بھی چھپانے لگے“
میری ان باتوں کا اس کے دل پر گہرا اثر ہوا اور مجھے آنسوؤں سے آنکھیں بھر کے بتانے لگا۔”تمھیں کیا بتاؤں دوست۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بیوی نے مجھے دھوکا دیا ہے“
میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ”کیسا دھوکا؟“
”اسے مجھ سے پیار نہیں تھا“
میں نے پوچھا ”کیا اس نے تمھیں خود بتایا؟“
”نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
”پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو؟“
”میں نے جب بھی اس سے کال پہ بات کی۔ وہ میرا حال پوچھنے سے زیادہ مجھ سے اپنے کزن کاحال بیان کرتی ہے۔فون پر وہ سارا وقت مجھے اس کی باتیں بتانے میں صرف کر دیتی ہے۔ میں جب اس سے پوچھتا ہوں تم مجھ سے اس کا ذکر کیوں کرتی ہو؟ تو کہتی: بس یونہی اس کا خیال ذہن میں آ گیا تھا۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میں نے اس سے بات کی ہو اور اپنے کزن نے اس کا ذکر نہ کیا ہو۔میری باتیں اس کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ میرا فون سننا بھی اس کو اب گراں لگتا ہے۔مجھ میں اب اس کے لیے کوئی دلچسپی نہیں رہی“
”لو یار!۔۔۔۔۔ تم اس بات سے پریشان تھے وہ اس کا کزن ہے اس سے بات ہو جاتی ہوگی اس میں ایسی کونسی قباحت ہے؟“
”نہیں یار کیا تم سمجھتے ہو میں نے اس کے بارے میں کوئی غلط اندازہ لگایا۔ کوئی لڑکی کسی کا غیرارادی طور پر تب ہی ذکر کرتی ہے جب وہ اس کے دل و دماغ پر چھایا ہواور پھر اس نے یہ بھی بتایا تھا وہ شادی سے پہلے اسے پسند کرتا تھا اور شادی کرنا چاہتا تھا۔لیکن کسی وجہ سے شادی نہ ہو پائی“۔
وہ ان باتوں میں سچا تھا۔اس واقعی لافانی اور پاک محبت کا خون ہوا تھا۔ لیکن مجھے خدشہ تھا، میری ان باتوں کی تصدیق کے بعد اس کاباقی ماندہ حوصلہ بھی جاتا رہے گا۔ وہ نیم بے ہوشی کے نچلے درجے سے بھی نیچے گر جائے گا۔ پھر وہ اپنی لاش اٹھائے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ میں اس سے یہی کہتا رہا ”نہیں یار تمھیں شک ہوا ہے ایسی کوئی بات نہیں ہوگی،تم جب گھر جاؤ گے اس بات کی تصدیق کر لینا“۔
وہ یہ باتیں اپنے ذہن میں دہرا دہرا کر ایک نفسیاتی مریض بن گیا تھا،اس کے اعصاب مضمحل تھے۔ یہ بات اس کے ذہن میں لاوے کی طرح ابل رہی تھی، جو اس کو اندر ہی اندر جلا رہی تھی۔ مجھے یہ فکر دامن گیر تھی کہ وہ اس حالت میں جنگ کیسے لڑے گا۔میرے ذہن میں ابھی یہی سوچ گردش کر رہی تھی کہ وہ مورچے سے اچانک اٹھا اور دشمن کی طرف بھاگنے لگا۔یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مجھے اس کو روکنے کی مہلت بھی نہ ملی، میں اس کو پیچھے سے آوازیں دیتا رہ گیا۔ لیکن اتنے میں کئی گولیاں اس کے سینے میں پیوست ہو چکی تھیں۔وہ ایک لمحے کے مختصر عرصے میں، چند گز کے فاصلے پر زمین پر آگِرا تھا،وہ جانکنی کے عالم میں زرد چہرہ لیے مجھے دیکھ رہا تھا اورمیں مجبور و معذور گولیوں کی بوچھاڑ میں اس تک جا نہیں سکتا تھا۔ یہ پہلا کام تھا جس کے کرنے سے پہلے اس نے مجھ سے مشورہ نہیں کیا تھا۔وہ آخری چیز جو میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھی، وہ دکھ اور آنسو تھے جو جاتے جاتے مجھے سونپ گیا تھا۔
اس حال میں بیٹھے ہوئے سبھی لوگ سمجھتے ہیں وہ دشمن سے بہادری سے لڑتے ہوئے مرا ہے اور میں جانتاہوں وہ بہادری نہیں تھی اس کی خودکشی تھی۔

About Farooq

Arshad Farooq has been an Urdu Columnist, feature writer and blogger for 10 years. Has has done masters in English and Journalism from Bahauddin Zakariya University Multan, Punjab, Pakistan.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے