Home / اردو ادب / قرض (افسانہ)
URDU AFSANAY

قرض (افسانہ)

جبران علی
بڑے بیٹے کے تعلیمی اخراجات کے لیے لیا گیا قرض، اس نے آج ادا کیا تھا۔اسے یہ قرض اتارنے میں برسوں لگے۔ اسے یاد تھا وہ بیس سال پہلے بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں اپنے سیاہ سر کے ساتھ آیا تھا لیکن اب اس میں چاندی اتر آئی تھی او ر وہ بیٹاجس کے لیے قرض لیا گیا تھا،تعلیم اور ملازمت حاصل کرنے کے بعد گھر والوں کو گاؤں میں چھوڑ کر شہرچلا گیا۔لیکن اب اس کی تمام تر امیدوں کا محور چھوٹا بیٹا تھا جو اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ شاید ہی کسی باپ بیٹے میں اتنی دوستی ہو جتنی ان دونوں کے درمیان تھی۔اس لیے وہ اپنے چھوٹے بیٹے سے ملنے کے لیے مچل رہا تھا۔وہ اپنا سامان باندھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اس کے اور بیٹے کے درمیان آج کی رات ہی حائل ہے کل وہ صبح کی فلائٹ سے اپنے وطن لوٹ جائے گا۔لیکن وہ رات اس نے انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزاری۔
جہاز میں بیٹھا وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے متعلق سوچ رہا تھاکہ اب تو چھوٹا بیٹا بھی جوان ہو چکا ہوگا، اس کے بچپن کی ساری معصومانہ شرارتیں جس کو وہ برسوں پہلے اپنے بیٹے میں چھوڑ کر گیا تھا، اب وقت نے معدوم کر دی ہوں گی۔وہ قرض اتارنے کے غرض سے،ان معصوم شرارتوں سے اپنے دل کو نہیں بہلا سکا تھا جو کہ ایک باپ اپنے کم سن بچے کی شرارتوں سے بہلاتا ہے۔ پھر اسے اپنی بیوی کا خیال آیا، اس میں کہاں اب وہ جاذبیت رہی ہو گی۔ وقت نے اسے بھی بوڑھا کر دیا ہوگا۔اتنے سال میرے بغیر تنہا گزار دیے،بیچاری بڑی صابر نکلی لیکن دل کی بہت کمزور ہے۔ چھوٹی سی بات پر آنکھیں بھر آتیں ہے۔

چلو خیر۔۔۔۔ میرے گھر جانے سے کچھ تو خوشیا ں لوٹ آئیں گی۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے اوپر سے پیچھے کی طرف بالوں پر پھیرتے ہوئے سوچوں کے گرداب سے نکلنے کی کوشش کی اور جہاز میں اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا۔تمام سیٹوں پر سواریاں بیٹھی ہوئیں تھیں۔ کچھ مسافر مدھم آواز میں باتیں کرنے میں مگن تھے۔ کوئی سو رہا تھا اور کوئی کانوں میں ائیر فون لگائے اپنے سامنے لگی سکرین دیکھنے میں محو تھے۔جہاز میں موجود ائیرہو سٹس مسافروں کی خدمت میں ہمہ تن مصروف تھیں۔
اسے اپنے بڑے بیٹے کے کلمات آتشیں یاد آئے جس سے اس کا دل غمزدہ ہو گیا۔جس کی پڑھائی کے لیے اس نے اور اس کی بیوی نے کیا کیا جتن نہیں کیے۔جب پڑھ لکھ گیاتب اسے والدین ہی کی عادتیں بری لگنے لگیں اور یہ کہہ کر چھوڑ گیا کہ”تم لوگوں نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے؟ اگر کچھ کیا بھی ہے تو کوئی انوکھا نہیں کیا دنیا کے سارے والدین اتنا تو اپنی اولاد کے لیے کیا ہی کرتے ہیں“۔ بڑے بیٹے کی اس بات سے اس کا سینہ دن رات سلگتا رہتا۔ وہ کتنا ہی خوش ہوتا اس کی ساری خوشی بڑے بیٹے کے خیال سے بے لطف ہو کر رہ جاتی۔ لیکن چھوٹے بیٹے کے بارے میں سوچ کر خود کو تسلی دیتا کہ وہ ہمیشہ فرمانبردار رہے گااور اپنے بڑے بھائی کی طرح نہیں کرے گا۔
ائیر پورٹ پر لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ آنے جانے والوں کی نسبت استقبال کرنے اور الوداع کہنے والوں کی کثرت تھی۔لوگ پیلروں پر نصب سکرینوں پر اندر سے آنے والے اپنے عزیزوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے اور جب کوئی عزیز انھیں نظر آتا تو وہ خوشی سے بھاگتے ہوئے اس سے جا ملتے۔ اس کا بھی یہی خیال تھا کہ بیٹا مجھے جیسے ہی دیکھے گا خوشی سے چلاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جائے گا۔ بیٹے کو دیکھنے کے جذبات نے اس کے دل کی دھڑکن کو مزید تیز کر دیا۔
ائیر پورٹ سے باہر نکل کر اس نے اپنی نظر کو چاروں طرف گھمایا اس کا خیال تھاچھوٹا بیٹا کہیں کھڑااس کا منتظر ہوگا۔ لیکن اس کے حیطہ نگاہ میں بیٹا نظر نہ آیا۔وہ یہ دیکھ کر مغموم ہو گیا کہ اپنے آنے کی خبر دینے کے باوجود بیٹالینے نہیں آیا۔اس نے مردہ دل سے ٹیکسی لی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔اسے اپنے بیٹے سے قطعاً یہ امید نہ تھی۔ سارے راستے میں اس کا ذہن اسی بات پر اٹکا رہا۔وہ سوچ رہا تھا گھر جا کر بیٹے سے سو سو طرح کے گلے شکوے کرے گا۔سارے راستے میں اس کی نظریں بل کھاتی ہوئی کالی سٹرک کے دونوں طرف سر سبزکھیتیوں پر تھیں۔ کھیتیوں کو سیراب کرنے کے لیے ٹیوب ویلوں کا پانی کھالوں میں بہہ رہا تھا۔ ہل چلاتے ٹریکٹروں کے پیچھے بگلے تازہ مٹی میں اپنی خوراک ڈھونڈھ رہے تھے۔راستے میں آنے والے اینٹوں کے بھٹے اپنی چمنیوں سے سفید دھواں اُگل رہے تھے۔بھٹوں پر اینٹوں کے لگے ڈھیر آنی والی ترقیوں کی خبر دے رہے تھے۔بڑے گاؤں کی طرف جاتی ہوئی رابطہ سٹرکوں کو پختہ بنا دیا گیا تھا۔ جن پر مختلف ماڈلوں کی قیمتی ویگنیں ڈورتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ لیکن اس کے لیے یہ سب عبث تھا۔ جب انسان کے اند ر کا موسم ہی اچھا نہ ہو تو باہر کا کوئی بھی موسم اس کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
جب گھر کے سامنے ٹیکسی رکی تو اتر کر اپنے گھر پر نگاہ ڈالی۔ اسے اپنا گھر پہلے سے بھی پرانا اور خستہ حال لگا۔ ٹیکسی سے سامان اتار کر بیٹے کو آواز دی۔آواز پر بیوی نے دروازہ کھولا۔وہ اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا وہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ بوڑھی ہوچکی تھی۔ گزرتے ماہ و سال نے اسے جھکی کمر والی بڑھیامیں تبدیل کر دیا تھا۔
بیوی سے کہا ”اس نالائق کو بلاؤ آ کر سامان اٹھائے“۔ بیوی کہنے لگی وہ گھر نہیں ہے کھیلنے گیا ہے۔
”اسے پتہ نہیں تھا میرے آنے کا؟“
تھوڑی دیر بیٹھے رہنے کے بعد پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہوا:
اسے ابھی تک آ جانا چاہیے تھا کہاں کھیلنے گیا ہے؟
”آپ کھانا وغیرہ کھا کر تھوڑی دیر آرام کر یں وہ آ جائے گا“بیوی نے کہا۔
”نہیں آپ بتائیں وہ کہاں گیا ہے اسے اتنی دیر نہیں لگانی چاہیے تھی؟“
بیوی خود پر قابو نہ پا سکی اس کی آنکھوں میں موتی تیرنے لگے۔
”کیا ہوا؟۔۔۔۔۔تم رو کیوں رہی ہو؟“اس نے حیرت سے پوچھا۔
”میں آپ کو کیسے بتاؤں وہ بھی ہمیں بڑے بیٹے کی طرح دغا دے گیا ہے“
وہ جو تکیے سے ٹیک لگا ئے بیٹھا تھا،بیوی کی یہ بات سن کرپریشانی کے عالم میں سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
”کیا مطلب!۔۔۔۔۔۔؟ دغا دے گیا کہاں چلا گیا ہے؟“
”ادھر نزدیک ہی ہے گاؤں سے باہر“ بیوی نے اپنے دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا
”مجھے اس کے پاس ابھی لے چلو میں اس کے کان کھینچتا ہوں تم نے مجھے بتایا بھی نہیں ایک دفعہ فون پہ بتاتی تو سہی؟“
”آپ چھوڑیں۔۔۔۔۔ وہ نہیں آئے گا“
”کیوں نہیں آئے گا؟ تم میرے ساتھ چلو، میں دیکھتا ہوں وہ کیسے نہیں آتا؟“
دونوں ایک سمت کو چل پڑے۔ کتنے ہی خواب تھے جو بیٹے کے بارے میں اس نے اپنے دل و دماغ میں پال رکھے تھے۔وہ راستے میں سوچ رہا تھا جس امید پر میں برسوں جیا۔ بیٹے نے اس پر پانی پھیر دیا۔اسے اپنے بڑے بھائی کے عمل کو دہرانا نہیں چاہیے تھا۔اگر اس کی اپنی ماں سے کوئی اَن بن ہو بھی گئی تھی تو مجھ سے فون پہ بات کرتا۔جانے سے پہلے مجھے بتا تو دیتا، میں اس کے دوستوں کی طرح تھا اور بیوی آنکھوں کے کونوں سے پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے بکھیرتی خود کو آگے گھسیٹتی ایک تہی دست ویرانے میں آ کر رک گئی۔ یہاں پر کیکر، وّن، سر کنڈے، آک، پرانی بیریوں کے جھنڈ اور ٹنڈ منڈ درخت ماحول کی بے کیفی میں اضافہ کر رہے تھے۔ آسمان کی گہری بلندیوں میں چیلیں اڑتی دکھائی دے رہی تھیں۔ کہیں دور افق میں درختوں سے الجھتا سورج ڈوبنے کی تیاری کر رہا تھا۔
”و ہ اب یہاں رہتا ہے“ بیوی نے ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ بیوی کی آواز پر چونکا۔
”یہاں۔۔۔۔۔۔ ادھر تو کوئی گھر نہیں ہے۔ یہ تم مجھے کہاں ویرانے میں لے آئی ہو؟“ اس نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
“جی!……اب یہی اس کا مستقل گھر ہے؟” بیوی نے ایک مٹی کی ڈھیری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
” یہ تم کیا کہہ رہی ہو”؟اس نے اپنی بے ترتیب ہوتی ہوئی تیز سانسوں کے درمیان میں کہا۔ اس کے چہرے پر زردی کھنڈنے لگی۔اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔آسمان گھومتا ہوا اور زمین پاؤں تلے سے کھسکتی محسوس ہوئی۔
”تم نے بہت برا کیا مجھے اس کی موت کی خبر کیوں نہ کی؟“
کیسے بتاتی؟ بستر مرگ پر اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا: ”میرے باپ کومیری بیماری کی خبر نہ کرنا۔ میں نہیں چاہتا میرا باپ میرے مرض پراور قرض لے جو ساری زندگی ادا نہ ہو۔ اسے اس بڑھاپے میں گھرہونا چاہیے اس کی بوڑھی ہڈیوں میں مزید قرض اتارنے کی سکت نہیں۔ ماں وعدہ کریں جب تک وہ خود واپس نہیں آ جاتے میری موت کی خبر نہ کرنا ان کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہوگا۔“
باپ قبر کے سرہانے اپنے گھٹنے ٹیک دیے۔ ”بیٹا مجھے معاف کر دیناجو وقت مجھے تمہارے ساتھ ہونا چاہیے تھا وہ قرض اتارنے میں صرف ہو گیا۔ میں جانتا ہوں تم نے میرا بہت انتظار کیا مگر افسوس میں نے بہت دیر کر دی۔ قرض تو اتر گیا مگر یہ تمہاری مٹی کا قرض مجھ سے ساری زندگی نہیں اترے گا“۔
اور وہ مٹی کے ڈھیر پر گر گیا۔

About Farooq

Arshad Farooq has been an Urdu Columnist, feature writer and blogger for 10 years. Has has done masters in English and Journalism from Bahauddin Zakariya University Multan, Punjab, Pakistan.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے