Home / کالم / عالمی بنک اور پاکستان کا معاشی بحران
pakistan economic crisis

عالمی بنک اور پاکستان کا معاشی بحران

از: ڈاکٹرابر ہیم مغل
پاکستان کی دگرگوں معاشی حالت کی تصدیق کرنے میں عالمی بینک بھی پیچھے نہیں رہا۔ اپنی تازہ رپورٹ میں بینک نے کہا ہے کہ آئندہ دو سال پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے کڑی اقتصادی آزمائش سے بھرپور ہوں گے اور معاشی اصلاحات اگر نافذ کی گئیں تو 2021ء میں معیشت کی شرح نمو چار فیصد ہوسکتی ہے۔ صرف چار فیصد۔ اس وقت ایک عام شہری کی نظر میں ملکی معیشت کا مسئلہ کیا ہے؟ مہنگائی بلند سے بلند تر سطح پر پہنچ رہی ہے۔

حکومت باقاعدگی سے روزمرہ ضرورت کے استعمال کی اشیاء کی قیمت بڑھادیتی ہے۔ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن یہ دیکھ کر دکھ ضرور ہوتا ہے کہ حکومتی اکابرین اس بارے میں کچھ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تاجر بھی پیچھے نہیں رہتے۔ سبزی، دالیں، آٹا، روٹی غرض زندگی کی ہر ضرورت کے نرخ وہ کسی قاعدے قانون کے بغیر بڑھادیتے ہیں۔ ہر ہفتے جب یہ ہوتا ہے تو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے حکومت حرکت میں آجاتی ہے کہ سبزی، پھلوں اور دالوں کی قیمتوں میں ’’مصنوعی اضافہ‘‘ کسی صورت برداشت نہیں ہوگا۔ مگر اس فرمان سے کیا مراد لی جائے؟ اور صارفین اگر ان اضافہ شدہ قیمتوں پر اشیا نہ خریدیں گے تو کیا کرلیں گے؟ تاجروں اور صنعتکاروں نے اپنی مرضی کے نرخ نامے آویزاں کرلیے ہیں اور حکومت نے ’’نفع خوروں‘‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ، مگر اس سے کیا نتیجہ نکلا؟ کیا کریک ڈاؤن کے خوف سے تاجر دکانیں بند کرکے چھپ گئے یا نفع خوری کا بازار جوں کا توں گرم رہا؟ عوام کے لیے زندگی بوجھ بنی ہوئی ہے اور بااقتدار لوگوں کو تمسخر سوجھ رہا ہے۔ اعلیٰ سطح پر عوامی مسائل کے احساس اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ خیبر پختونخواہ کے سپیکر فرماتے ہیں کہ دو کی بجائے ایک روٹی کھاؤ۔ کیا یہ فارمولہ زندگی کی دیگر ضروریات پر بھی من و عن منطبق ہوسکتا ہے؟ علاج کروائیں تو دوا کی آدھی خوراک لیں؟ یا بچوں کو سکول بھیجیں تو آدھی تعلیمی ضروریات سے کام چلائیں، علیٰ ہذ القیاس۔ کیا حکومت کو اندازہ ہے کہ قرضوں پر شرح سود میں اضافے نیز توانائی کی قیمتوں میں لگاتار اضافے سے پاکستان میں کاروبار کا ماحول کس قدر دشوار ہوچکا ہے؟ ان حالات میں باہر سے نئی سرمایہ کاری کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔ صرف ایک مثال دیتے ہیں کہ بجلی کے خوفناک بحران کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار ہمارے ہاں سالہا سال سے اولیں ترجیح رہی ہے۔ جو سرمایہ کار ملک میں بجلی پیدا کرنے والے یونٹ قائم کرنا چاہتے ہیں اصولاً ہمیں ان کو وی وی آئی پی کا درجہ دینا چاہیے، مگر ادارہ جاتی سطح پر ہمارے ہاں کام کے انداز میں تمام تر دعووں اور جوش و جذبے کے باوجود کوئی فرق نہیں آیا۔ چنانچہ صنعتکار ہمارے ہاں کی روایتی سردمہری کا سامنا کرتے کرتے جلد ہی حوصلہ چھوڑ دیتا ہے اور اپنی توجہات کسی اور ابھرتی مارکیٹ کی جانب مبذول کردیتا ہے۔
یہ صرف ایک شعبے یا کسی ایک ملک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ نہیں ہورہا، بلکہ ہماری روایتی ’’سرمایہ بھگاؤ‘‘ حکمت عملی ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ کیا حکومت کو اندازہ نہیں کہ اس روایت کا انجام کیسا کٹھن ہوسکتا ہے؟ سرمایہ کار، جسے وی وی آئی پی ہونا چاہیے اس کی ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں۔ متبادل وسائل سے بجلی پیدا کرنے کا شعبہ ہمارے ملک میں خاصا پرکشش ہے، سورج کی وافر روشنی، وسیع میدانی اور صحرائی علاقہ اور ساحلی اور نیم پہاڑی علاقے میں ہوا کی ایسی گزرگاہیں جہاں پون بجلی پیدا کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے؛ اگر ضوابط کار کا ماحول معاون ہوتا تو متبادل توانائی کے ان شعبوں میں اتنی سرمایہ کاری آتی کہ ان ماحول دوست وسائل سے ہم ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کررہے ہوتے، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ چنانچہ پیداوار بھی نہیں بڑھ سکی، بلکہ ماحول دوست توانائی کے متبادل وسائل سے بجلی کی پیداوار میں ہم ابھی ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ دنیا جن وسائل سے اپنی ضروریات کا بڑا حصہ حاصل کررہی ہے ان کی افادیت پر ہمارا اعتماد ہی ابھی تک قائم نہیں ہوسکا۔ دراصل ہر دفتر اور ہمارا ہر ضابطہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ سیاسی نظریات میں اختلاف کے باوجود سبھی جماعتوں اور حکومتوں میں یہ کیسی قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ سرمائے اور صنعت کے پنپنے میں کسی نے مدد نہیں کی، اگرچہ دعوے بہت کیے مگر مسائل کا حل کسی کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ضوابط کار کی ازسرنو کون تشکیل کرے گا؟ ان کی سمت کون درست کرے گا؟ جن ہزاروں، لاکھوں افراد نے ان کو نافذ کرنا ہے، ان کی سوچ اور رویے کون درست کرے گا؟ پاکستان کے عوام ایسی کہانیاں آئے روز سنتے ہیں کہ معیشت کا بحرانی مرحلہ گزرگیا، اب ہم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم استحکام حقیقی صورت میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ پیداواری سرگرمیاں بدستور سست روی کا شکار ہیں اور جب پید اہی کچھ نہیں ہورہا تو باہر کیا بھیجیں گے اور زرمبادلہ کہاں سے آئے گا۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں بھی انہی خدشات کا اظہار پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو سرمایہ کاری اور پیداواری اضافے کی مدد سے آگے بڑھنی چاہیے، تاکہ ’’معاشی تعطل‘‘ کی اس صورتحال کا خاتمہ ہو جو ہر چند سال بعد اس ملک میں عود کر آتی ہے۔
موسم تبدیل ہوتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شروع ہونا آنے والے گرم مہینوں کے دوران بجلی کے بڑے بحران کا اشارہ ہے۔ ابھی جبکہ ملک کے زیادہ تر حصوں میں گرمی کی شدت کم ہے، مگر بجلی کا شارٹ فال 2500 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے تو اندازہ کریں کہ مئی، جون اور جولائی میں جب بجلی کی کھپت میں بڑی حد تک اضافہ ہوچکا ہوگا، شارٹ فال کی صورتحال کیا ہوگی؟ بجلی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے زیر گردش قرضے الگ بحران پیدا کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت زیر گردش قرضے 1400 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ بجلی کے بحران کا ایک بڑا سبب ہیں، خاص طور پر شدتِ گرما میں جب کھپت بہت بڑھ جاتی ہے تو کئی بار نجی بجلی گھر بقایا جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پیداوار روکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گردشی قرضوں کا مسئلہ مگر اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک کہ بجلی کی ترسیل اور وصولی کے نظام میں بہت سی کوتاہیاں اور بدعنوانیاں دور نہیں کی جاتیں۔ لائن لاسز پر قابو پانا ہمارے ملک میں بجلی کی فراہمی کے ہموار نظام کی بنیادی شرط ہے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاکہ نئی ٹرانسمیشن لائنیں، بہتر صلاحیت کے ٹرانسفارمر اور جدید میٹر نصب کیے جاسکیں۔ مگر یہ سسٹم کی لازمی ضرورت بن چکی ہے، بصورت دیگر بجلی چوری کے مسئلے پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔

mobile phones

About chichawatninews

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے