Home / چیچہ وطنی نیوز / ہڑپہ میں اتائی ڈاکٹرز کا دھندا ناسور کی شکل اختیار کر گیا، انتظامیہ خاموش تماشائی
harappa police station

ہڑپہ میں اتائی ڈاکٹرز کا دھندا ناسور کی شکل اختیار کر گیا، انتظامیہ خاموش تماشائی

ہڑپہ (چوہدری منیر احمد ساجد سے) ہڑپہ اور گردونواح میں عطائیت کادھندہ ناسور کی شکل اختیار کر گیا، انتظامیہ خاموش تماشائی، عطائی ڈاکٹروں نے جگہ جگہ کلینک اور میٹرنٹی ہومز بنا کر ہرقسم کے آپریشن کرکے نہ صرف سادہ لوح لوگوں کا معاشی بلکہ انسانی جانوں کا قتل عام بھی کررہے ہیں.

عطائیوں نے اپنے کلینکوں پرنامور ڈاکٹروں کےنام سے منسوب سائن بورڈ لگا رکھے ہیں اور نان ٹیکنیکل عملہ سے مریضوں کو ڈرپ اور انجکشن لگانے کا کام لیا جاتا ہے.

تفصیل کے مطابق ہڑپہ اور اس کے گرد و نواح میں آئے روز ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی وسماجی حلقوں نے کمشنر و ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑپہ میں عطائیت کادھندہ ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا ثبوت صدر بازار المعروف ڈاکٹروں والا بازار نائی والا روڈ پر ہڑپہ اسٹیشن پر واقع ایک کلینک اینڈ میٹرنٹی ہوم ہے جہاں پر چند دن قبل ایک چھ سالہ معصوم بچے سلمان ولد محمد اشرف کو عطائی ڈاکٹر نے اپنے اسسٹنٹ کے ہاتھوں غلط انجکشن لگوا کر بچے کو موت کی نیند سلا دیا.

یاد رہے اس سے قبل بھی مذکورہ عطائی ڈاکٹر کے کئی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جن میں ایک خاتون 185 نوایل کی بھی شامل ہےجس کاغلط آپریشن ہونے پرکیس ملتان ہائی کورٹ میں چلا جس میں اس عطائی کو لاکھوں روپے جرمانہ اور پریکٹس نہ کرنے کی پابندی بھی عائد کی گئی.

اس کے علاوہ 4 دس ایل سے ایک شخص کا بازو ٹیکہ لگنے کے سبب سیاہ ہوگیااور پھر اس عطائی نے لاہور سے اس کا علاج کروایا، یہ واقعات ہیں جوصرف ایک عطائی اقبال نے کیے ہیں اور جو خبروں کی صورت میں سامنے آئے.

پس پردہ متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہے، کئی گلی محلوں میں دائیوں کے اپنے اپنے گھروں میں بنائے گئے میٹرنٹی ہومز بھی ہیں جہاں پر وہ نارمل ڈیلیوری کے نام پر زچہ اور بچہ دونوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں، افسوسناک پہلو تویہ ہے کہ محکمہ صحت ساہیوال اور دیگر محکموں نے مکمل چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے.

جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو محکمہ صحت اور دیگر ادارے حرکت میں نظر آتے ہیں پھر وہی رات گئی بات گئی. حلقہ کے لوگ ایک بار پھر ان عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہیں.

About Farooq

Arshad Farooq has been an Urdu Columnist, feature writer and blogger for 10 years. Has has done masters in English and Journalism from Bahauddin Zakariya University Multan, Punjab, Pakistan.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے